5 اشعار

اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھا

Ashk daman mein bhare khwab kamar par rakha

اشک دامن میں بھرے خواب کمر پر رکھاپھر قدم ہم نے تری راہ گزر پر رکھا

ہم نے اک ہاتھ سے تھاما شب غم کا آنچلاور اک ہاتھ کو دامان سحر پر رکھا

چلتے چلتے جو تھکے پاؤں تو ہم بیٹھ گئےنیند گٹھری پہ دھری خواب شجر پر رکھا

جانے کس دم نکل آئے ترے رخسار کی دھوپمدتوں دھیان ترے سایۂ در پر رکھا

جاتے موسم نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا مشتاقؔرہ گیا ساغر گل سبزۂ تر پر رکھا

— احمد مشتاق