5 اشعار

رات پھر رنگ پہ تھی اس کے بدن کی خوشبو

Raat phir rang pe thi us ke badan ki khushboo

رات پھر رنگ پہ تھی اس کے بدن کی خوشبودل کی دھڑکن تھی کہ اڑتے تھے لہو میں جگنو

جیسے ہر شے ہو کسی خواب فراموش میں گمچاند چمکا نہ کسی یاد نے بدلا پہلو

صبح کے زینۂ خاموش پہ قدموں کے گلابشام کی بند حویلی میں ہنسی کا جادو

صحن کے سبز اندھیرے میں دمکتے رخسارصاف بستر کے اجالے میں چمکتے گیسو

جھلملاتے رہے وہ خواب جو پورے نہ ہوئےدرد بیدار ٹپکتا رہا آنسو آنسو

— احمد مشتاق