5 اشعار

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میں

Bahut ruk ruk ke chalti hai hawa khaali makanon mein

بہت رک رک کے چلتی ہے ہوا خالی مکانوں میںبجھے ٹکڑے پڑے ہیں سگریٹوں کے راکھ دانوں میں

دھوئیں سے آسماں کا رنگ میلا ہوتا جاتا ہےہرے جنگل بدلتے جا رہے ہیں کارخانوں میں

بھلی لگتی ہے آنکھوں کو نئے پھولوں کی رنگت بھیپرانے زمزمے بھی گونجتے رہتے ہیں کانوں میں

وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو دیکھوکوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں میں

زبانوں پر الجھتے دوستوں کو کون سمجھائےمحبت کی زباں ممتاز ہے ساری زبانوں میں

— احمد مشتاق