5 اشعار

پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے

Pani mein aks aur kisi aasman ka hai

پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہےیہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے

دیوار پر کھلے ہیں نئے موسموں کے پھولسایہ زمین پر کسی پچھلے مکاں کا ہے

چاروں طرف ہیں سبز سلاخیں بہار کیجن میں گھرا ہوا کوئی موسم خزاں کا ہے

سب کچھ بدل گیا ہے تہہ آسماں مگربادل وہی ہیں رنگ وہی آسماں کا ہے

دل میں خیال شہر تمنا تھا جس جگہواں اب ملال اک سفر رائیگاں کا ہے

— احمد مشتاق