6 اشعار

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

Haath se naapta hoon dard ki gehraai ko

ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کویہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو

تھا جو سینے میں چراغ دل پر خوں نہ رہاچاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو

دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیںکیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکنتجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

نگۂ ناز نہ ملتے ہوئے گھبرا ہم سےہم محبت نہیں کہنے کے شناسائی کو

دل ہے نیرنگئ ایام پہ حیراں اب تکاتنی سی بات بھی معلوم نہیں بھائی کو

— احمد مشتاق