5 اشعار

لاغر ہیں جسم رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے

Laghar hain jism rang hain kaale pade hue

لاغر ہیں جسم رنگ ہیں کالے پڑے ہوئےبالوں پہ گرد پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے

اس معرکے میں عشق بچارا کرے گا کیاخود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے

یہ جو بھی ہو بہار نہیں ہے جناب منکس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہوئے

اس دہر کی کشادہ دری پر نہ جائیےاندر قدم قدم پہ ہیں تالے پڑے ہوئے

شیشے کے اک گلاس میں نرگس کے پھول ہیںاک میز پر ہیں چند رسالے پڑے ہوئے

— احمد مشتاق