5 اشعار

بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گا

Behta aansu ek jhalak mein kitne roop dikhayega

بہتا آنسو ایک جھلک میں کتنے روپ دکھائے گاآنکھ سے ہو کر گال بھگو کر مٹی میں مل جائے گا

بھولنے والے! وقت کے ایوانوں میں کون ٹھہرتا ہےبیتی شام کے دروازے پر کس کو بلانے آئے گا

آنکھ مچولی کھیل رہا ہے اک بدلی سے اک تاراپھر بدلی کی یورش ہوگی پھر تارا چھپ جائے گا

اندھیارے کے گھور نگر میں ایک کرن آباد ہوئیکس کو خبر ہے پہلا جھونکا کتنے پھول کھلائے گا

پھر اک لمحہ آن رکا ہے وقت کے سونے صحرا میںپل بھر اپنی چھب دکھلا کر لمحوں میں مل جائے گا

— احمد مشتاق