4 اشعار

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا

Tha mujh se ham-kalam magar dekhne mein tha

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھاجانے وہ کس خیال میں تھا کس سمے میں تھا

کیسے مکاں اجاڑ ہوا کس سے پوچھتےچولھے میں روشنی تھی نہ پانی گھڑے میں تھا

تا صبح برگ و شاخ و شجر جھومتے رہےکل شب بلا کا سوز ہوا کے گلے میں تھا

نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈھتا ہواشامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا

— احمد مشتاق