6 اشعار

بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے

Bhaagne ka koi rasta nahin rehne dete

بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتےکوئی در کوئی دریچہ نہیں رہنے دیتے

آسماں پر سے مٹا دیتے ہیں تاروں کا سراغریت پر نقش کف پا نہیں رہنے دیتے

کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتیدھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے

پہلے بھر دیتے ہیں سامان دو عالم دل میںپھر کسی شے کی تمنا نہیں رہنے دیتے

شہر کوراں میں بھی آئینہ فروش آتے ہیںبے تجلی کوئی قریہ نہیں رہنے دیتے

طور سینا ہو کہ آتش کدہ سوز نہاںراکھ رہ جاتی ہے شعلہ نہیں رہنے دیتے

— احمد مشتاق