6 اشعار

اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھی

Ek phool mere paas tha ek shama mere saath thi

اک پھول میرے پاس تھا اک شمع میرے ساتھ تھیباہر خزاں کا زور تھا اندر اندھیری رات تھی

ایسے پریشاں تو نہ تھے ٹوٹے ہوئے سناہٹےجب عشق کی تیرے مرے غم پر بسر اوقات تھی

کچھ تم کہو تم نے کہاں کیسے گزارے روز و شباپنے نہ ملنے کا سبب تو گردش حالات تھی

اک خامشی تھی تر بہ تر دیوار مژگاں سے ادھرپہنچا ہوا پیغام تھا برسی ہوئی برسات تھی

سب پھول دروازوں میں تھے سب رنگ آوازوں میں تھےاک شہر دیکھا تھا کبھی اس شہر کی کیا بات تھی

یہ ہیں نئے لوگوں کے گھر سچ ہے اب ان کو کیا خبردل بھی کسی کا نام تھا غم بھی کسی کی ذات تھی

— احمد مشتاق