6 اشعار

چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے

Chand bhi nikla sitare bhi barabar nikle

چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلےمجھ سے اچھے تو شب غم کے مقدر نکلے

شام ہوتے ہی برسنے لگے کالے بادلصبح دم لوگ دریچوں میں کھلے سر نکلے

کل ہی جن کو تری پلکوں پہ کہیں دیکھا تھارات اسی طرح کے تارے مری چھت پر نکلے

دھوپ ساون کی بہت تیز ہے دل ڈوبتا ہےاس سے کہہ دو کہ ابھی گھر سے نہ باہر نکلے

پیار کی شاخ تو جلدی ہی ثمر لے آئیدرد کے پھول بڑی دیر میں جا کر نکلے

دل ہنگامہ طلب یہ بھی خبر ہے تجھ کومدتیں ہو گئیں اک شخص کو باہر نکلے

— احمد مشتاق