5 اشعار

بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں

Bhoole bisre mausmon ke darmiyan rehta hoon main

بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میںاب جہاں کوئی نہیں رہتا وہاں رہتا ہوں میں

دن ڈھلے کرتا ہوں بوڑھی ہڈیوں سے ساز بازجب تلک شب ڈھل نہیں جاتی جواں رہتا ہوں میں

کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیالکن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں کہاں رہتا ہوں میں

جگمگاتے جاگتے شہروں میں رہتا ہوں ملولسوئی سوئی بستیوں میں شادماں رہتا ہوں میں

بوتا رہتا ہوں ہوا میں گم شدہ نغموں کے بیجوہ سمجھتے ہیں کہ مصروف فغاں رہتا ہوں میں

— احمد مشتاق