5 اشعار

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہے

Dil mein woh shor na aankhon mein woh nam rehta hai

دل میں وہ شور نہ آنکھوں میں وہ نم رہتا ہےاب تپ ہجر توقع سے بھی کم رہتا ہے

کبھی شعلے سے لپکتے تھے مرے سینے میںاب کسی وقت دھواں سا کوئی دم رہتا ہے

کیا خدا جانے مرے دل کو ہوا تیرے بعدنہ خوشی اس میں ٹھہرتی ہے نہ غم رہتا ہے

رشتۂ تار تمنا نہیں ٹوٹا اب تکاب بھی آنکھوں میں تری زلف کا خم رہتا ہے

چھوڑ جاتی ہے ہر اک رت کوئی خوشبو کوئی رنگنہ ستم رہتا ہے باقی نہ کرم رہتا ہے

— احمد مشتاق