5 اشعار

چھٹ گیا ابر شفق کھل گئی تارے نکلے

Chhut gaya abr-e-shafaq khul gaye taare nikle

چھٹ گیا ابر شفق کھل گئی تارے نکلےبند کمروں سے ترے درد کے مارے نکلے

شاخ پر پنکھڑیاں ہوں کہ پلک پر آنسوتیرے دامن کی جھلک دیکھ کے سارے نکلے

تو اگر پاس نہیں ہے کہیں موجود تو ہےتیرے ہونے سے بڑے کام ہمارے نکلے

تیرے ہونٹوں میری آنکھوں سے نہ بدلی دنیاپھر وہی پھول کھلے پھر وہی تارے نکلے

رہ گئی لاج مری عرض وفا کی مشتاقؔخامشی سے تری کیا کیا نہ اشارے نکلے

— احمد مشتاق