5 اشعار

لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میں

Lubhaata hai agarche husn-e-darya dar raha hoon main

لبھاتا ہے اگرچہ حسن دریا ڈر رہا ہوں میںسبب یہ ہے کہ اک مدت کنارے پر رہا ہوں میں

یہ جھونکے جن سے دل میں تازگی آنکھوں میں ٹھنڈک ہےانہی جھونکوں سے مرجھایا ہوا شب بھر رہا ہوں میں

ترے آنے کا دن ہے تیرے رستے میں بچھانے کوچمکتی دھوپ میں سائے اکٹھے کر رہا ہوں میں

کوئی کمرہ ہے جس کے طاق میں اک شمع جلتی ہےاندھیری رات ہے اور سانس لیتے ڈر رہا ہوں میں

مجھے معلوم ہے اہل وفا پر کیا گزرتی ہےسمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں

— احمد مشتاق