4 اشعار

مجھے اس نے تری خبر دی ہے

Mujhe us ne teri khabar di hai

مجھے اس نے تری خبر دی ہےجس نے ہر شام کو سحر دی ہے

گم رہا ہوں ترے خیالوں میںتجھ کو آواز عمر بھر دی ہے

دن تھا اور گرد رہ گزار نصیبرات ہے اور ستارہ گردی ہے

سرد و گرم زمانہ دیکھ لیانہ وہ گرمی ہے اب نہ سردی ہے

— احمد مشتاق