5 اشعار

خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیں

Khwab ke phoolon ki tabeeren kahani ho gayin

خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی ہو گئیںخون ٹھنڈا پڑ گیا آنکھیں پرانی ہو گئیں

جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزواس کی تصویریں بھی اوراق خزانی ہو گئیں

دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت دیکھ کرجن کو لکھنا تھا وہ سب باتیں زبانی ہو گئیں

جو مقدر تھا اسے تو روکنا بس میں نہ تھاان کا کیا کرتے جو باتیں ناگہانی ہو گئیں

رہ گیا مشتاقؔ دل میں رنگ یاد رفتگاںپھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں

— احمد مشتاق