6 اشعار

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے

Dilon ki aur dhuan sa dikhai deta hai

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہےیہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے

جہاں کہ داغ ہے یاں آگے درد رہتا تھامگر یہ داغ بھی جاتا دکھائی دیتا ہے

پکارتی ہیں بھرے شہر کی گزر گاہیںوہ روز شام کو تنہا دکھائی دیتا ہے

یہ لوگ ٹوٹی ہوئی کشتیوں میں سوتے ہیںمرے مکان سے دریا دکھائی دیتا ہے

خزاں کے زرد دنوں کی سیاہ راتوں میںکسی کا پھول سا چہرہ دکھائی دیتا ہے

کہیں ملے وہ سر راہ تو لپٹ جائیںبس اب تو ایک ہی رستہ دکھائی دیتا ہے

— احمد مشتاق