6 اشعار

دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتا

Duniya mein suraagh-e-rah-e-duniya nahin milta

دنیا میں سراغ رہ دنیا نہیں ملتادریا میں اتر جائیں تو دریا نہیں ملتا

باقی تو مکمل ہے تمنا کی عمارتاک گزرے ہوئے وقت کا شیشہ نہیں ملتا

جاتے ہوئے ہر چیز یہیں چھوڑ گیا تھالوٹا ہوں تو اک دھوپ کا ٹکڑا نہیں ملتا

جو دل میں سمائے تھے وہ اب شامل دل ہیںاس آئنے میں عکس کسی کا نہیں ملتا

تو نے ہی تو چاہا تھا کہ ملتا رہوں تجھ سےتیری یہی مرضی ہے تو اچھا نہیں ملتا

دل میں تو دھڑکنے کی صدا بھی نہیں مشتاقؔرستے میں ہے وہ بھیڑ کہ رستہ نہیں ملتا

— احمد مشتاق