5 اشعار

شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں

Shaam-e-gham yaad hai kab shama jali yaad nahin

شام غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیںکب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں

دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گزری تھیکب دھندلکا ہوا کب ناؤ چلی یاد نہیں

ٹھنڈے موسم میں پکارا کوئی ہم آتے ہیںجس میں ہم کھیل رہے تھے وہ گلی یاد نہیں

ان مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی تھیکیسے کھلتی تھی محبت کی کلی یاد نہیں

جسم و جاں ڈوب گئے خواب فراموشی میںاب کوئی بات بری ہو کہ بھلی یاد نہیں

— احمد مشتاق