5 اشعار

اک عمر کی اور ضرورت ہے وہی شام و سحر کرنے کے لیے

Ek umar ki aur zaroorat hai wohi shaam o sahar karne ke liye

اک عمر کی اور ضرورت ہے وہی شام و سحر کرنے کے لیےوہ بات جو تم سے کہہ نہ سکے اسے بار دگر کرنے کے لیے

کبھی ذکر کیا تری زلفوں کا اور جاتی شام کو روک لیاکبھی یاد کیا ترے چہرے کو آغاز سحر کرنے کے لیے

فٹ پاتھ پہ بھی سونے نہ دیا ترے شہر کے عزت داروں نےہم کتنی دور سے آئے تھے اک رات بسر کرنے کے لیے

اس آنکھ نے جس کی قسمت میں سچ مچ کے در و دیوار نہ تھےخوابوں کے نگر آباد کیے حسرت کی نظر کرنے کے لیے

اس بے حس دنیا کے آگے کسی لہر کی پیش نہیں جاتیاب بحر کا بحر اچھال کوئی اسے زیر و زبر کرنے کے لیے

— احمد مشتاق