6 اشعار

اجلا ترا برتن ہے اور صاف ترا پانی

Ujla tera bartan hai aur saaf tera paani

اجلا ترا برتن ہے اور صاف ترا پانیاک عمر کا پیاسا ہوں مجھ کو بھی پلا پانی

ہے اک خط نادیدہ دریائے محبت میںہوتا ہے جہاں آ کر پانی سے جدا پانی

دونوں ہی تو سچے تھے الزام کسے دیتےکانوں نے کہا صحرا آنکھوں نے سنا پانی

کیا کیا نہ ملی مٹی کیا کیا نہ دھواں پھیلاکالا نہ ہوا سبزہ میلا نہ ہوا پانی

جب شام اترتی ہے کیا دل پہ گزرتی ہےساحل نے بہت پوچھا خاموش رہا پانی

پھر دیکھ کہ یہ دنیا کیسی نظر آتی ہےمشتاقؔ مئے غم میں تھوڑا سا ملا پانی

— احمد مشتاق