6 اشعار

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

Kahin umeed si hai dil ke nihan-khane mein

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میںابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں

موسم گل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنیہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں

ہم سے مخفی نہیں کچھ رہ گزر شوق کا حالہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا کھانے میں

ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزہ ہی کچھ اورایسی لذت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہےہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

موسموں کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھوکتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں

— احمد مشتاق