5 اشعار

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

Yeh kahna to nahin kaafi ke bas pyare lage hum ko

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کوانہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو

مکیں تھے یا کسی کھوئی ہوئی جنت کی تصویریںمکاں اس شہر کے بھولے ہوئے سپنے لگے ہم کو

ہم ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس چلے آئےوہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھےمگر اس کار دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو

جہاں تنہا ہوئے دل میں بھنور سے پڑنے لگتے ہیںاگرچہ مدتیں گزریں کنارے سے لگے ہم کو

— احمد مشتاق