4 اشعار

زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گے

Zindagi se ek din mausam khafa ho jaayenge

زندگی سے ایک دن موسم خفا ہو جائیں گےرنگ گل اور بوئے گل دونوں ہوا ہو جائیں گے

آنکھ سے آنسو نکل جائیں گے اور ٹہنی سے پھولوقت بدلے گا تو سب قیدی رہا ہو جائیں گے

پھول سے خوشبو بچھڑ جائے گی سورج سے کرنسال سے دن وقت سے لمحے جدا ہو جائیں گے

کتنے پر امید کتنے خوبصورت ہیں یہ لوگکیا یہ سب بازو یہ سب چہرے فنا ہو جائیں گے

— احمد مشتاق