6 اشعار

خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں میں

Khoon-e-dil se kisht-e-gham ko seenchta rehta hoon main

خون دل سے کشت غم کو سینچتا رہتا ہوں میںخالی کاغذ پر لکیریں کھینچتا رہتا ہوں میں

آج سے مجھ پر مکمل ہو گیا دین فراقہاں تصور میں بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں میں

تو دیار حسن ہے اونچی رہے تیری فصیلمیں ہوں دروازہ محبت کا، کھلا رہتا ہوں میں

شام تک کھینچے لیے پھرتے ہیں اس دنیا کے کامصبح تک فرش ندامت پر پڑا رہتا ہوں میں

ہاں کبھی مجھ پر بھی ہو جاتا ہے موسم کا اثرہاں کسی دن شاکیٔ آب و ہوا رہتا ہوں میں

اہل دنیا سے تعلق قطع ہوتا ہی نہیںبھول جانے پر بھی صورت آشنا رہتا ہوں میں

— احمد مشتاق