6 اشعار

کس جھٹپٹے کے رنگ اجالوں میں آ گئے

Kis jhapte ke rang ujaalon mein aa gaye

کس جھٹپٹے کے رنگ اجالوں میں آ گئےٹکڑے شفق کے دھوپ سے گالوں میں آ گئے

افسردگی کی لے بھی ترے قہقہوں میں تھیپت جھڑ کے سر بہار کے جھالوں میں آ گئے

اڑ کر کہاں کہاں سے پرندوں کے قافلےنادیدہ پانیوں کے خیالوں میں آ گئے

حسن تمام تھے تو کوئی دیکھتا نہ تھاتم درد بن کے دیکھنے والوں میں آ گئے

کانٹے سمجھ کے گھاس پہ چلتا رہا ہوں میںقطرے تمام اوس کے چھالوں میں آ گئے

کچھ رتجگے تھے جن کی ضرورت نہیں رہیکچھ خواب تھے جو میرے خیالوں میں آ گئے

— احمد مشتاق