7 اشعار

کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا

Kis shai pe yahan waqt ka saya nahin hota

کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتااک خواب محبت ہے کہ بوڑھا نہیں ہوتا

وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماریپھرتی ہیں وہ شکلیں جنہیں دیکھا نہیں ہوتا

بارش وہ برستی ہے کہ بھر جاتے ہیں جل تھلدیکھو تو کہیں ابر کا ٹکڑا نہیں ہوتا

گھر جاتا ہے دل درد کی ہر بند گلی میںچاہو کہ نکل جائیں تو رستہ نہیں ہوتا

یادوں پہ بھی جم جاتی ہے جب گرد زمانہملتا ہے وہ پیغام کہ پہنچا نہیں ہوتا

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سےلیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

کیا اس سے گلہ کیجیئے بربادئ دل کاہم سے بھی تو اظہار تمنا نہیں ہوتا

— احمد مشتاق