5 اشعار

شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیں

Sham hoti hai to yaad aati hai saari baatein

شام ہوتی ہے تو یاد آتی ہے ساری باتیںوہ دوپہروں کی خموشی وہ ہماری باتیں

آنکھیں کھولوں تو دکھائی نہیں دیتا کوئیبند کرتا ہوں تو ہو جاتی ہیں جاری باتیں

کبھی اک حرف نکلتا نہیں منہ سے میرےکبھی اک سانس میں کر جاتا ہوں ساری باتیں

جانے کس خاک میں پوشیدہ ہیں آنسو میرےکن فضاؤں میں معلق ہیں تمہاری باتیں

کس ملاقات کی امید لیے بیٹھا ہوںمیں نے کس دن پہ اٹھا رکھی ہیں ساری باتیں

— احمد مشتاق