6 اشعار

منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیا

Manzar-e-subh dikhaane use laaya na gaya

منظر صبح دکھانے اسے لایا نہ گیاآتی جاتی رہیں شامیں کوئی آیا نہ گیا

رات بستر پہ کھلے چاند میں سوتا تھا کوئیمیں نے چاہا کہ جگاؤں تو جگایا نہ گیا

ایک مدت اسے دیکھا اسے چاہا لیکنوہ کبھی پاس سے گزرا تو بلایا نہ گیا

گھیرے رہتی تھی اسے ایک جہاں کی نظریںپھر جو دیکھا تو وہ اس آن میں پایا نہ گیا

سر اٹھاتے ہی کڑی دھوپ کی یلغار ہوئیدو قدم بھی کسی دیوار کا سایا نہ گیا

تھا مقرر کہ ملاقات رہے گی اس سےوہ تو پہنچا تھا مگر مجھ سے ہی آیا نہ گیا

— احمد مشتاق