4 اشعار

نالۂ خونیں سے روشن درد کی راتیں کرو

Nala-e-khooneen se roshan dard ki raaten karo

نالۂ خونیں سے روشن درد کی راتیں کرومیں نہیں کہتا دعا مانگو مناجاتیں کرو

دل کے گچھے میں ہیں سارے موسموں کی چابیاںدھوپ کھولو چاندنی چھٹکاؤ برساتیں کرو

جو نہیں سنتے ہیں ان کو بھی سناؤ اپنی باتجو نہیں ملتے ہیں ان سے بھی ملاقاتیں کرو

موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گیزندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو

— احمد مشتاق