5 اشعار

زلف دیکھی وہ دھواں دھار وہ چہرا دیکھا

Zulf dekhi wo dhuan dhaar wo chehra dekha

زلف دیکھی وہ دھواں دھار وہ چہرا دیکھاسچ بتا دیکھنے والے اسے کیسا دیکھا

رات ساری کسی ٹوٹی ہوئی کشتی میں کٹیآنکھ بستر پہ کھلی خواب میں دریا دیکھا

زرد گلیوں میں کھلے سبز دریچے جن میںدھوپ لپٹی رہی اور سائے کو جلتا دیکھا

کالے کمروں میں کٹی ساری جوانی اس کیجس نے اے صبح محبت ترا رستا دیکھا

سنتے رہتے تھے کہ یوں ہوگا وہ ایسا ہوگالیکن اس کو تو کسی اور طرح کا دیکھا

— احمد مشتاق