5 اشعار

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لب

Ye kaun khwab mein chhoo kar chala gaya mere lab

یہ کون خواب میں چھو کر چلا گیا مرے لبپکارتا ہوں تو دیتے نہیں صدا مرے لب

یہ اور بات کسی کے لبوں تلک نہ گئےمگر قریب سے گزرے ہیں بارہا مرے لب

اب اس کی شکل بھی مشکل سے یاد آتی ہےوہ جس کے نام سے ہوتے نہ تھے جدا مرے لب

اب ایک عمر سے گفت و شنید بھی تو نہیںہیں بے نصیب مرے کان بے نوا مرے لب

یہ شاخسانۂ وہم و گمان تھا شایدکجا وہ ثمرۂ باغ طلب کجا مرے لب

— احمد مشتاق