5 اشعار

پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا

Pata ab tak nahin badla hamara

پتا اب تک نہیں بدلا ہماراوہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا

وہی ٹوٹی ہوئی کشتی ہے اپنیوہی ٹھہرا ہوا دریا ہمارا

یہ مقتل بھی ہے اور کنج اماں بھییہ دل یہ بے نشاں کمرہ ہمارا

کسی جانب نہیں کھلتے دریچےکہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا

ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔہمارے ساتھ ہے سایا ہمارا

— احمد مشتاق