5 اشعار

ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے دھیان کی جوت جگائے ہوئے

Tere deewane har rang rahe tere dhyan ki jot jagaye hue

ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے دھیان کی جوت جگائے ہوئےکبھی نتھرے ستھرے کپڑوں میں کبھی انگ بھبھوت رمائے ہوئے

اس راہ سے چھپ چھپ کر گزری رت سبز سنہرے پھولوں کیجس راہ پہ تم کبھی نکلے تھے گھبرائے ہوئے شرمائے ہوئے

اب تک ہے وہی عالم دل کا وہی رنگ شفق وہی تیز ہواوہی سارا منظر جادو کا میرے نین سے نین ملائے ہوئے

چہرے پہ چمک آنکھوں میں حیا لب گرم خنک چھب نرم نواجنہیں اتنے سکون میں دیکھا تھا وہی آج ملے گھبرائے ہوئے

ہم نے مشتاقؔ یوں ہی کھولا یادوں کی کتاب مقدس کوکچھ کاغذ نکلے خستہ سے کچھ پھول ملے مرجھائے ہوئے

— احمد مشتاق