3 اشعار

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھا

Roshni rehti thi dil mein zakhm jab tak taaza tha

روشنی رہتی تھی دل میں زخم جب تک تازہ تھااب جہاں دیوار ہے پہلے وہاں دروازہ تھا

درد کی اک موج ہر خواہش بہا کر لے گئیکیا ٹھہرتیں بستیاں پانی ہی بے اندازہ تھا

رات ساری خواب کی گلیوں میں ہم چلتے رہےکھڑکیاں روشن تھیں لیکن بند ہر دروازہ تھا

— احمد مشتاق