5 اشعار

اداس کر کے دریچے نئے مکانوں کے

Udaas kar ke dareeche naye makanon ke

اداس کر کے دریچے نئے مکانوں کےستارے ڈوب گئے سبز آسمانوں کے

گئی وہ شب جو کبھی ختم ہی نہ ہوتی تھیہوائیں لے گئیں اوراق داستانوں کے

ہر آن برق چمکتی ہے دل دھڑکتا ہےمری قمیص پہ تنکے ہیں آشیانوں کے

ترے سکوت سے وہ راز بھی ہوئے افشاکہ جن کو کان ترستے تھے راز دانوں کے

یہ بات تو جرس شوق کو بھی ہے معلومقدم اٹھیں گے تو بس تیرے نا توانوں کے

— احمد مشتاق