8 اشعار

یہ ہم غزل میں جو حرف و بیاں بناتے ہیں

Yeh hum ghazal mein jo harf-o-bayaan banate hain

یہ ہم غزل میں جو حرف و بیاں بناتے ہیںہوائے غم کے لیے کھڑکیاں بناتے ہیں

انہیں بھی دیکھ کبھی اے نگار شام بہارجو ایک رنگ سے تصویر جاں بناتے ہیں

نگاہ ناز کچھ ان کی بھی ہے خبر تجھ کوجو دھوپ میں ہیں مگر بدلیاں بناتے ہیں

ہمارا کیا ہے جو ہوتا ہے جی اداس بہتتو گل تراشتے ہیں تتلیاں بناتے ہیں

کسی طرح نہیں جاتی فسردگی دل کیتو زرد رنگ کا اک آسماں بناتے ہیں

دل ستم زدہ کیا ہے لہو کی بوند تو ہےاس ایک بوند کو ہم بے کراں بناتے ہیں

بلا کی دھوپ تھی دن بھر تو سائے بنتے تھےاندھیری رات ہے چنگاریاں بناتے ہیں

ہنر کی بات جو پوچھو تو مختصر یہ ہےکشید کرتے ہیں آگ اور دھواں بناتے ہیں

— احمد مشتاق