9 اشعار

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے

Halqe nahin hain zulf ke halqe hain jaal ke

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے

«حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کےہاں اے نگاہ شوق ذرا دیکھ بھال کے

پہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسامعنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے

بوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغلکمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے

قامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیںدکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال کے

شان دماغ عشق کے جلوے سے یہ بڑھیرکھتا ہے ہوش بھی قدم اپنے سنبھال کے

زینت مقدمہ ہے مصیبت کا دہر میںسب شمع کو جلاتے ہیں سانچے میں ڈھال کے

ہستی کے حق کے سامنے کیا اصل این و آںپتلے یہ سب ہیں آپ کے وہم و خیال کے

تلوار لے کے اٹھتا ہے ہر طالب فروغدور فلک میں ہیں یہ اشارے ہلال کے

پیچیدہ زندگی کے کرو تم مقدمےدکھلا ہی دے گی موت نتیجہ نکال کے

— اکبر اللہ آبادی