5 اشعار

ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا

Hawa-e-shab bhi hai anbar afshaan urooj bhi hai mah-e-mubeen ka

ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا

«ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کانثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کا

اگر ہو ذوق سجود پیدا ستارہ ہو اوج پر جبیں کانشان سجدہ زمین پر ہو تو فخر ہے وہ رخ زمیں کا

صبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے دل کو ہوا یہ کھٹکاکوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو کہیں کا

نہ مہر و مہ پر مری نظر ہے نہ لالہ و گل کی کچھ خبر ہےفروغ دل کے لیے ہے کافی تصور اس روئے آتشیں کا

نہ علم فطرت میں تم ہو ماہر نہ ذوق طاعت ہے تم سے ظاہریہ بے اصولی بہت بری ہے تمہیں نہ رکھے گی یہ کہیں کا

— اکبر اللہ آبادی