8 اشعار

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

Ishq-e-but mein kufr ka mujh ko adab karna pada

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

«عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑاجو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا

صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہلکھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا

تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احترازپہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا

شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیںدین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا

کیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سےعقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا

اقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیںشیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا

عالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان رازایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا

شعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسندحضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا

— اکبر اللہ آبادی