5 اشعار

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

Jahan mein haal mera is qadar zaboon hua

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

«جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہواکہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا

غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیںمگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا

وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیرانہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا

امید چشم مروت کہاں رہی باقیذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا

نگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پرہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں