برق کلیسا
کلام: اکبر اللہ آبادی
رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چارہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار
زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مریدقدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چارہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار
زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مریدقدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیےمنزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے
کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثباتہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہواکہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا
غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیںمگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا