4 اشعار

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے

Koi hans raha hai koi ro raha hai

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے

«کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے نین سکھ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 27 سیکنڈ ہے۔

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہےکوئی پا رہا ہے کوئی کھو رہا ہے

کوئی تاک میں ہے کسی کو ہے غفلتکوئی جاگتا ہے کوئی سو رہا ہے

کہیں ناامیدی نے بجلی گرائیکوئی بیج امید کے بو رہا ہے

اسی سوچ میں میں تو رہتا ہوں اکبرؔیہ کیا ہو رہا ہے یہ کیوں ہو رہا ہے

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں