15 اشعار

خودی بھی مجھ سے جب واقف نہ تھی میں تب سے بسمل ہوں

Khudi bhi mujh se jab waqif na thi main tab se bismil hoon

خودی بھی مجھ سے جب واقف نہ تھی میں تب سے بسمل ہوں

«خودی بھی مجھ سے جب واقف نہ تھی میں تب سے بسمل ہوں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے طیورفتم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

خودی بھی مجھ سے جب واقف نہ تھی میں تب سے بسمل ہوںازل سے کشتہِ تیغِ نگاہِ نازِ قاتل ہوں

دلا کیوں کر میں اس رخسار روشن کے مقابل ہوںجسے خورشید محشر دیکھ کر کہتا ہے میں تل ہوں

خمِ گیسو پر اک رشک پری کے دل سے مائل ہوںمجھے بھی ان دنوں سودا ہے دیوانوں میں داخل ہوں

نہیں معلوم اس کو تیری چتون سے مقابل ہوںمجھے واعط سمجھتا ہے کہ میں مرنے سے غافل ہوں

نگاہِ ناز سے تم نے اگر دیکھا نہیں مجھ کوتو پھر میں کیوں تڑپتا ہوں نہ زخمی ہوں نہ بسمل ہوں

فغاں کیسی کہ حرفِ شکوہ بھی لب پر نہ آئے گایہ جب تک تم نہ کہ لو گے وفا کا تیری قاتل ہوں

رہِ الفت وہ کوچہ ہے قضا بھی جس سے ڈرتی ہےقدم رکھتا ہے دل اس میں نثارِ ہمتِ دل ہوں

جو یوں ہی لحظہ لحظہ داغِ حسرت کی ترقی ہےعجب کیا رفتہ رفتہ میں سراپا صورتِ دل ہوں

مدد اے رہنمائے گمرہاں اس دشتِ غربت میںمسافر ہوں پریشاں حال ہوں گم کردہ منزل ہوں

یہ میرے سامنے شیخ و برہمن کیا جھگڑتے ہیںاگر مجھ سے کوئی پوچھے کہوں دونوں کا قائل ہوں

اگر دعوائے یک رنگی کروں ناخوش نہ ہو جانامیں اس آئینہ خانہ میں ترا عکسِ مقابل ہوں

توقع رہتی ہے دم کہ دم لینے کی مہلت ہےمعاذ اللہ اپنی موت سے کس درجہ غافل ہوں

رسائی زلف نے پائی قدم تک اب وہ کیوں آئیںبہانہ خوب ہاتھ ایا کہ پابندِ سلاسل ہوں

خبر لیتے ہیں اس کی جس کو بیگانہ سمجھتے ہیںمجھے کب پوچھتے ہیں میں تو اک تحصیلِ حاصل ہوں

زمینِ شعر جس سے آسمان بن جائے اے اکبرعلوئے طبع سے ایسی غزل پڑھنے پہ مائل ہوں

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں