5 اشعار

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی

Shaikh ne nāqūs ke sar meñ jo khud hī tān lī

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی

«شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لیپھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لی

مدتوں قائم رہیں گی اب دلوں میں گرمیاںمیں نے فوٹو لے لیا اس نے نظر پہچان لی

رو رہے ہیں دوست میری لاش پر بے اختیاریہ نہیں دریافت کرتے کس نے اس کی جان لی

میں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیارہ گئے نغمے حدی خوانوں کے ایسی تان لی

حضرت اکبرؔ کے استقلال کا ہوں معترفتابہ مرگ اس پر رہے قائم جو دل میں ٹھان لی

— اکبر اللہ آبادی