6 اشعار

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

Sāñs lete hue bhī ḍartā hūñ

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

«سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوںیہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں

بحر ہستی میں ہوں مثال حبابمٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں

اتنی آزادی بھی غنیمت ہےسانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں

شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوںمیں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں

آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاجشکر اللہ کا ہے مرتا ہوں

یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔدل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں