8 اشعار

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے

Terī zulfoñ meñ dil uljhā huā hai

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے

«تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہےبلا کے پیچ میں آیا ہوا ہے

نہ کیوں کر بوئے خوں نامے سے آئےاسی جلاد کا لکھا ہوا ہے

چلے دنیا سے جس کی یاد میں ہمغضب ہے وہ ہمیں بھولا ہوا ہے

کہوں کیا حال اگلی عشرتوں کاوہ تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے

جفا ہو یا وفا ہم سب میں خوش ہیںکریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے

ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی قدرہمیں سے آپ کا شہرا ہوا ہے

بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہطبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے

پریشاں رہتے ہو دن رات اکبرؔیہ کس کی زلف کا سودا ہوا ہے

— اکبر اللہ آبادی