5 اشعار

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے

Umeed ṭūṭī huī hai merī jo dil merā thā woh mar chukā hai

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے

«امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہےجو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے

اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقیاجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے

غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمیچہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے

یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزنوہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے

غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دےاسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے

— اکبر اللہ آبادی