23 اشعار

بی مینڈکی

Bi Maindaki

بی مینڈکی

«بی مینڈکی» اختر شیرانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 56 سیکنڈ ہے۔

بادل اٹھا اور چھا گیاساون کا مینہ برسا گیا

جنگل میں جل تھل ہو گیانہروں میں پانی آ گیا

اور آ گئیں بی مینڈکیبچوں نے جب دیکھا انہیں

سبزے پہ لپکے گھیر کربی مینڈکی نے جس گھڑی

دیکھا انہیں منہ پھیر کرگھبرا گئیں بی مینڈکی

بھاگیں کبھی اچھلیں کبھیدوڑیں کبھی اچکیں کبھی

لپکیں کبھی کودیں کبھیپھاندیں کبھی پھدکیں کبھی

تنگ آ گئیں بی مینڈکیسبزے کے اندر چھپ رہیں

جب تھک گئیں اکتا گئیںبچوں کے ہاتھوں سے مگر

جاتیں کہاں ہاتھ آ گئیںہاتھ آ گئیں بی مینڈکی

مردہ بنی تھیں مکر سےبچے یہ سمجھے مر گئیں

تنگ آ کے ان کے ظلم سےدنیا سے رحلت کر گئیں

کام آ گئیں بی مینڈکیپھینکا پکڑ کر ایک نے

بی مینڈکی کو نہر میںبی مینڈکی نے آپ کو

بہتا جو پایا لہر میںلہرا گئیں بی مینڈکی

پیاسی جو تھیں کچھ دیر سےسیروں ہی پانی پی گئیں

پھر لپکیں خشکی کی طرفبچوں نے دیکھا جی گئیں

اور آ گئیں بی مینڈکیچپکے سے اک لڑکا بڑھا

اور ہاتھ مارا زور سےبی مینڈکی کا سر لگا

پتھر کی چبھتی کور سےمرجھا گئیں بی مینڈکی

بی مینڈکی میں دم نہ تھادیکھا جو مٹھی کھول کر

بچوں نے چلا کر کہالو اب کے تو سچ مچ سفر

فرما گئیں بی مینڈکی

— اختر شیرانی